حدیث نمبر: 11347
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ، قَالَ جَابِرٌ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي، فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ، وَلَكِنْ قَالَ: " سَأَغْدُو عَلَيْكَ "، فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ وَبَقِيَتْ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ وَهُوَ جَالِسٌ: اسْمَعْ عُمَرُ مَا يَقُولُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ فَوَاللهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے والد احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور ان پر قرض تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے قرض میں بڑی شدت اختیار کی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ سے اس بارے میں بات کی تو آپ ﷺ نے ان (قرض خواہوں) سے فرمایا: ”وہ میرے باغ کی کھجوریں لے لیں اور بقیہ میرے والد کو معاف کر دیں۔“ انہوں نے اس سے انکار کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے نہ باغ دیا اور نہ ہی پھل تڑوائے، پھر فرمایا: ”کل صبح میں تیرے باغ میں آؤں گا۔“ صبح کے وقت آپ ﷺ آئے اور باغ میں چلتے پھرتے رہے اور برکت کی دعا کرتے رہے۔ پھر میں نے پھل توڑا اور قرض خواہوں کا قرض ادا کیا اور میرے پاس پھل بچ بھی گیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا۔ وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”عمر! سن رہے ہو جو جابر کہہ رہا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”ہم تو پہلے بھی جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ کی قسم! آپ اللہ کے رسول ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلح / حدیث: 11347
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2601»