السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: صلح الإبراء والحطيطة، وما جاء في الشفاعة في ذلك باب: براءت (حق معاف کرنے) اور حطیطہ (کمی کرنے) کی صلح کا بیان، اور اس سلسلے میں سفارش کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ح قَالَ: وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ حَتَّى كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ فَقَالَ: " يَا كَعْبُ، ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا " وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَيِ الشَّطْرَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَضَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے سے سن لیا، آپ ﷺ پردہ ہٹا کر باہر آئے اور فرمایا: ”اے کعب! اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو۔“ آپ ﷺ نے نصف معاف کرنے کا اشارہ کیا، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! پھر اس نے بقیہ ادا کر دیا۔