السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: المرأة يدفع إليها مالها إذا بلغت رشيدة، وتملك من مالها ما يملك الرجل من ماله باب: عورت جب سمجھدار ہو کر بالغ ہو تو اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے گا، اور وہ اپنے مال میں اسی طرح تصرف کا اختیار رکھتی ہے جیسے مرد اپنے مال میں اختیار رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 11327
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ؟ قَالَ: " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَجَّاجٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے، جو زبیر میرے پاس لاتے ہیں، تو کیا مجھے گناہ ہوگا اگر میں اس کے مال میں سے کچھ رکھ لوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا ضرورت ہو رکھ لیا کر اور گنتی نہ کر کہ پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔“