السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: المرأة يدفع إليها مالها إذا بلغت رشيدة، وتملك من مالها ما يملك الرجل من ماله باب: عورت جب سمجھدار ہو کر بالغ ہو تو اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے گا، اور وہ اپنے مال میں اسی طرح تصرف کا اختیار رکھتی ہے جیسے مرد اپنے مال میں اختیار رکھتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، أَخْبَرَتْ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً لَهَا وَلَمْ تَسْتَأْذِنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ قَالَتْ: أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنِّي ⦗٩٩⦘ قَدْ أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي فُلَانَةً؟ قَالَ: " أَوَفَعَلْتِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ.ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، لیکن رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہیں لی، چنانچہ جب وہ دن آیا جس میں آپ ان کے پاس آیا کرتے تھے تو فرمانے لگیں: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی فلاں لونڈی آزاد کردی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا واقعی؟“ کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دیتی تو تمہیں اس سے کہیں بڑا اجر ملتا۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، أَخْبَرَتْ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً لَهَا وَلَمْ تَسْتَأْذِنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ قَالَتْ: أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنِّي ⦗٩٩⦘ قَدْ أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي فُلَانَةً؟ قَالَ: " أَوَفَعَلْتِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ.ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، لیکن رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہیں لی، چنانچہ جب وہ دن آیا جس میں آپ ان کے پاس آیا کرتے تھے تو فرمانے لگیں: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی فلاں لونڈی آزاد کردی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا واقعی؟“ کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دیتی تو تمہیں اس سے کہیں بڑا اجر ملتا۔“ [بخاری: 2592]