السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: البلوغ بالإنبات باب: زیرِ ناف بال اگنے کے ذریعے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11321
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِابْنِ الصَّعْبَةِ قَدِ ابْتَهَرَ امْرَأَةً فِي شِعْرِهِ، قَالَ: " انْظُرُوا إِلَى مُؤْتَزَرِهِ "، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوهُ أَنْبَتَ الشَّعْرَ، فَقَالَ: " لَوْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ لَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ابن صعبہ کو لایا گیا، اس نے اپنے شعروں میں اپنے ساتھ ایک عورت پر زنا کا اعتراف کیا تھا تو آپ نے فرمایا: اسے دیکھو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ اس کے بال ابھی نہیں اگے تھے، آپ نے فرمایا: اگر اس کے بال اگ چکے ہوتے تو میں اس پر حد لگاتا۔ عبید بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکا لایا گیا جس نے چوری کی تھی تو آپ نے فرمایا: اس کی چادر کے نیچے دیکھو، انہوں نے دیکھا تو اس کے بال نہیں اگے تھے۔ چنانچہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔