السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: البلوغ بالإنبات باب: زیرِ ناف بال اگنے کے ذریعے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11320
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " رُفِعَ إِلَيْهِ غُلَامٌ ابْتَهَرَ جَارِيَةً فِي شِعْرِهِ، فَقَالُوا: انْظُرُوا إِلَيْهِ، فَلَمْ يُوجَدْ أَنْبَتَ، فَدَرَأَ عَنْهُ الْحَدَّ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَعْضُهُمْ يَرْوِيهِ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: ابْتَهَرَ، الِابْتِهَارُ أَنْ يَقْذِفَهَا بِنَفْسِهِ، يَقُولُ: فَعَلْتُ بِهَا كَاذِبًا، فَإِنْ كَانَ قَدْ فَعَلَ فَهُوَ الِابْتِيَارُ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک لڑکا لایا گیا جس نے اپنے اشعار میں ایک لڑکی پر اپنے ساتھ زنا کا بہتان لگایا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے دیکھو، جب دیکھا تو پتہ چلا کہ اس کے زیرِ ناف بال نہیں اگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے حد ہٹا لی۔ ابو عبید کہتے ہیں: «اِبْتَهَرَ» کا معنی ہے کہ اس نے بہتان لگایا کہ میں نے اس کے ساتھ یہ کیا ہے لیکن وہ اپنے قول میں جھوٹا ہے، اگر حقیقت میں کیا ہو تو اسے «اِبْتِيَار» کہتے ہیں۔