السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: الحجر على المفلس وبيع ماله في ديونه باب: مفلس (دیوالیہ) پر پابندی (حجر) لگانے اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں اس کا مال فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11261
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَابًّا حَلِيمًا سَمْحًا مِنْ أَفْضَلِ شَبَابِ قَوْمِهِ، وَلَمْ يَكُنْ يُمْسِكُ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ يَدَّانُ حَتَّى أَغْرَقَ مَالَهُ كُلَّهُ فِي الدَّيْنِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ غُرَمَاءَهُ، فَلَوْ تَرَكُوا أَحَدًا مِنْ أَجَلِ أَحَدٍ لَتَرَكُوا مُعَاذًا مِنْ أَجَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي مَالَهُ، حَتَّى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ " هَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَخَالَفَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے سب سے معزز، نرم خو نوجوان تھے۔ وہ اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتے تھے، چنانچہ ہمیشہ مقروض رہتے تھے حتیٰ کہ ان کا سارا سامان قرضے میں چلا گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے ان سے بات کی، اگر وہ کسی کو کسی کی خاطر قرضہ معاف کرتے تو رسول اللہ ﷺ کی خاطر معاذ رضی اللہ عنہ کو معاف کرتے، آپ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا مال بیچ دیا اور معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ باقی نہ بچا۔