السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على أنه يأخذ لكل عضو ماء جديدا ولا يتطهر بالماء المستعمل باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ ہر عضو کے لیے نیا پانی لے اور مستعمل پانی سے طہارت حاصل نہ کرے
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ وَغَيْرِهِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بِبَلَلِ يَدَيْهِ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ أَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَصَبَّ بَعْضَهُ وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِبَلَلِ يَدَيْهِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ لَمْ يَكُنْ بِالْحَافِظِ وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مُخْتَلِفُونَ فِي جَوَازِ الِاحْتِجَاجِ بِرِوَايَاتِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: ابْنُ عَقِيلٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ وَقَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، فَقَالَ: رَأَيْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ وَالْحُمَيْدِيَّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِهِ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، ⦗٣٦٢⦘ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ شَيْءٌ فِي مَعْنَاهُ وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مَنْ ذَلِكَ لِضَعْفِ أَسَانِيدِهِ وَقَدْ بَيَّنْتُهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ مَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اغْتَسَلَ فَرَأَى لُمْعَةً فِي مَنْكِبِهِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَخَذَ خُصْلَةً مِنْ شَعْرِ رَأْسِهِ فَعَصَرَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى ذَلِكَ الْمَكَانِ. وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.(الف) ربیع سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ میں بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔
(ب) عبداللہ بن داؤد وغیرہ ثوری سے نقل کرتے ہیں کہ بعض نے کہا: ”آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کی تری سے ہی مسح کرتے تھے، یعنی جب آپ ﷺ کسی دوسرے عضو کو دھونے کے لیے پانی لیتے تو اسے اس پر بہاتے اور پھر باقی ماندہ ہاتھوں کی تری سے مسح کرتے۔“ عبداللہ بن محمد بن عقیل حافظِ حدیث نہیں تھے۔ محدثین ان کی روایات کو قابلِ حجت سمجھنے میں مختلف فیہ ہیں۔ (ج) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عقیل کی احادیث قابلِ حجت نہیں۔ (د) امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے ابن عقیل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ”میں نے احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم اور حمیدی کو دیکھا، وہ اس کی احادیث کو قابلِ حجت سمجھتے تھے۔“ (ر) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺ سے مروی روایت کی سند ضعیف ہے۔ (س) سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے غسل کے متعلق اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں لیکن ان کی اسانید ضعیف ہیں۔ خلافیات میں اس کی مکمل وضاحت ہے۔ (ط) امام ابوداؤد رحمہ اللہ مراسیل میں علاء بن زیاد کے واسطے نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے غسل کیا اور کندھے پر تھوڑی سی خشک جگہ تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، آپ ﷺ نے اپنے سر کے بالوں سے پانی لے کر وہاں کندھے پر نچوڑ دیا، پھر ہاتھ کے ساتھ اس کو مل دیا۔“ یہ روایت منقطع ہے۔