حدیث نمبر: 11253
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَفْلَسَ مَوْلًى لِأُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتُصِمَ فِيهِ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى عُثْمَانُ " أَنَّ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَتَبَيَّنَ إِفْلَاسُهُ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ فَهُوَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ایک غلام مفلس ہو گیا، فیصلہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص اس کا افلاس واضح ہونے سے پہلے جو کچھ لے چکا تھا وہ اس کے لیے ہے اور جو شخص اپنا سامان بعینہٖ پا لے تو وہ زیادہ حق دار ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11253