السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: المشتري يفلس بالثمن باب: خریدار کا قیمت ادا کرنے کے معاملے میں مفلس (دیوالیہ) ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ وَوَجَدَ الْبَائِعُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی مفلس ہو جائے اور بیچنے والا اپنا سامان بعینہ اس کے پاس پالے تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے۔“