السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: من قال: الرهن مضمون باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”رہن (گروی رکھی گئی چیز) کی ضمانت لازم ہے“۔
حدیث نمبر: 11228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا مَطَرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَرْتَهِنُ الرَّهْنَ فَيَضِيعُ قَالَ: " إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ يَرُدُّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ " هَذَا لَيْسَ بِمَشْهُورٍ عَنْ عُمَرَ، وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَرُوِيَ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو کوئی چیز گروی لے، پھر وہ اس کے پاس ضائع ہو جائے: اگر وہ اس قرض سے کم قیمت کی ہو جس کے بدلے میں تھی تو (گروی رکھنے والا) اسے اس کا باقی حق پورا کرے گا اور اگر اس کی قیمت اس سے زیادہ ہو تو وہ امین ہے، یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور نہیں ہے اور اس بارے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایات مختلف ہیں۔