السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: من قال: الرهن مضمون باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”رہن (گروی رکھی گئی چیز) کی ضمانت لازم ہے“۔
حدیث نمبر: 11226
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، أنبأ الْوَلِيدُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا رَهَنَ فَرَسًا، فَنَفَقَ الْفَرَسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا بِهَذَا اللَّفْظِ دُونَ الْقِصَّةِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَزَمْعَةُ غَيْرُ قَوِيٍّ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَخْذَهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بِمُرْسَلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ دُونَ غَيْرِهِ؛ لِأَنَّ مَرَاسِيلَهُ أَصَحُّ مِنْ مَرَاسِيلِ غَيْرِهِ؛ وَلَأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھا تو وہ ہلاک ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہن اسی چیز کے بدلے میں ہوتی ہے جس میں وہ ہو۔“ اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ زمعہ بن صالح، ابن طاؤس سے اور وہ اپنے والد سے مرسل بیان کرتے ہیں؛ لیکن قصہ مختلف ہے اور زمعہ غیر قوی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلہ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی مرسل مقبول ہے کیونکہ ان کی مرسل دوسروں کی مرسل سے قوی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ روایت موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔