السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: ما جاء في زيادات الرهن باب: رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) میں ہونے والے اضافے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11209
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُشْبِهُ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَنْ رَهَنَ ذَاتَ دَرٍّ وَظَهْرٍ لَمْ يَمْنَعِ الرَّاهِنَ دَرَّهَا وَظَهْرَهَا؛ لِأَنَّ لَهُ رَقَبَتَهَا، فَهِيَ مَحْلُوبَةٌ وَمَرْكُوبَةٌ كَمَا كَانَتْ قَبْلَ الرَّهْنِ، قَالَ: وَمَنَافِعُ الرَّهْنِ لِلرَّاهِنِ، لَيْسَ لِلْمُرْتَهِنِ مِنْهَا شَيْءٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”گروی جانور کی سواری بھی کی جاسکتی ہے اور دودھ بھی دوہا جاسکتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کوئی دودھ والا یا سواری والا جانور گروی رکھے تو جس کے پاس گروی رکھا گیا ہو اسے منع نہ کیا جائے کہ وہ دودھ پیے یا سواری کرے؛ کیونکہ وہ اس کی دیکھ بھال بھی تو کرتا ہے۔ چنانچہ اس پر اسی طرح سواری کی جائے گی اور دودھ دوہا جائے گا جیسے رہن سے پہلے کیا جاتا تھا، فرماتے ہیں: رہن رکھی گئی چیز کے منافع گروی رکھنے والے کے لیے ہوں گے نہ کہ گروی لینے والے کے لیے۔