السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: العصير المرهون يصير خمرا فيخرج من الرهن ولا يحل تخليل الخمر بعمل آدمي باب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِالطَّلَا ⦗٦٣⦘ وَهُوَ بِالْجَابِيَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُطْبَخُ وَهُوَ كَعَقِيدِ الرُّبِّ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي هَذَا لَشَرَابًا مَا انْتَهَى إِلَيْهِ فَلَا يُشْرَبُ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّى يُبْدِيَ اللهُ فَسَادَهَا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَطِيبُ الْخَلُّ، وَلَا بَأْسَ عَلَى امْرِئٍ أَنْ يَبْتَاعَ خَلًّا وَجَدَهُ مَعَ أَهْلِ الْكِتَابِ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَهَا بَعْدَمَا عَادَتْ خَمْرًا " قَوْلُهُ: أُفْسِدَتْ يَعْنِي: عُولِجَتْ.سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جابیہ نامی جگہ پر ایک طلاء لایا گیا اور وہ اس دن کچھ پکایا گیا تھا، گویا کہ وہ کچھ کھجور وغیرہ کا گاڑھا شیرہ ہے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں شراب ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ شراب کا سرکہ نہ پیا جائے جو خراب ہو چکا ہو، یہاں تک کہ اللہ اس کا فساد واضح کر دے، پھر یہ پاک ہو جائے گی اور اس کی خرید و فروخت کرنے میں آدمی پر کوئی حرج نہیں۔ انھوں نے اہل کتاب کے پاس اس (سرکہ) کو پایا، جس کا انھیں علم نہ ہوا کہ انھوں نے جان بوجھ کر اس سے سرکہ بنایا جبکہ وہ شراب بن چکی تھی۔