❮
❯
حدیث نمبر: 11201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِالطَّلَا ⦗٦٣⦘ وَهُوَ بِالْجَابِيَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُطْبَخُ وَهُوَ كَعَقِيدِ الرُّبِّ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي هَذَا لَشَرَابًا مَا انْتَهَى إِلَيْهِ فَلَا يُشْرَبُ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّى يُبْدِيَ اللهُ فَسَادَهَا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَطِيبُ الْخَلُّ، وَلَا بَأْسَ عَلَى امْرِئٍ أَنْ يَبْتَاعَ خَلًّا وَجَدَهُ مَعَ أَهْلِ الْكِتَابِ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَهَا بَعْدَمَا عَادَتْ خَمْرًا " قَوْلُهُ: أُفْسِدَتْ يَعْنِي: عُولِجَتْ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جابیہ نامی جگہ پر طلاء لایا گیا، ان دنوں اسے پکایا جاتا تھا اور وہ گاڑھے شیرے کی طرح ہوتا تھا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اس حد تک جہاں یہ پہنچ چکا ہے، ایک (جائز) مشروب ہے۔ شراب کا وہ سرکہ نہ پیا جائے جسے (جان بوجھ کر) بگاڑا گیا ہو، یہاں تک کہ اللہ خود اس کا بگاڑ ظاہر کر دے، تب وہ سرکہ پاکیزہ ہو جاتا ہے، اور آدمی پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اہل کتاب کے پاس پایا جانے والا سرکہ خرید لے، جب تک اسے یہ علم نہ ہو کہ انہوں نے شراب بن جانے کے بعد اسے جان بوجھ کر بگاڑا ہے۔
«أُفْسِدَتْ» (بگاڑا گیا) سے مراد ہے: اس کا علاج کیا گیا (یعنی اسے سرکہ بنانے کی تدبیر کی گئی)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11201
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري اليٰ قوله ليطيب الخل»