السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في الاحتكار باب: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَرَأَى نَاسًا يَحْتَكِرُونَ بِفَضْلِ أَذْهَابِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا، وَلَا نِعْمَةَ عَيْنٍ، يَأْتِينَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّزْقِ حَتَّى إِذَا نَزَلَ بِسُوقِنَا قَامَ أَقْوَامٌ فَاحْتَكَرُوا بِفَضْلِ أَذْهَابِهِمْ عَنِ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ، إِذَا خَرَجَ الْجُلَّابُ بَاعُوا عَلَى نَحْوِ مَا يُرِيدُونَ مِنَ التَّحَكُّمِ، وَلَكِنْ أَيُّمَا جَالِبٍ جَلَبَ يَحْمِلُهُ عَلَى عَمُودِ كَبِدِهِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ حَتَّى يَنْزِلَ سُوقَنَا فَذَلِكَ ضَيْفٌ لِعُمَرَ فَلْيَبِعْ كَيْفَ شَاءَ اللهُ، وَلْيُمْسِكْ كَيْفَ شَاءَ اللهُ " وَذَكَرَهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ مُرْسَلًا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا ابو ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بازار گئے تو آپ نے محسوس کیا کہ لوگ اپنے زائد سونے میں احتکار کر رہے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ ہمارے پاس رزق لاتا ہے حتیٰ کہ جب وہ ہمارے بازار میں آتا ہے تو کچھ قومیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور مسکینوں اور بیواؤں سے سونے کو چھپا کر رکھ لیتے ہیں، یعنی احتکار کرتے ہیں حتیٰ کہ جب بازار میں سامان لانے والا نکلتا ہے تو یہ احتکار کرنے والے اپنی مرضی کے مطابق بیچتے ہیں۔ لیکن جو تاجر گرمیوں اور سردیوں میں سامان لے کر آئے اور ہمارے بازار میں قیام کرے تو ایسا تاجر عمر کا مہمان ہے، وہ اپنا سامان بیچے جیسے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور روک رکھے جیسے اللہ تعالیٰ چاہے۔