❮
❯
حدیث نمبر: 11133
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَبْتَاعَ الْبَيْعَ ثُمَّ يَرُدَّهُ وَيَرُدَّ مَعَهُ دَرَاهِمَ " وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْإِقَالَةَ فَسْخٌ، فَلَا تَجُوزُ إِلَّا بِرَأْسِ الْمَالِ، وَأَمَّا التَّوْلِيَةُ فَهِيَ بَيْعٌ، قَالَهُ الْحَسَنُ وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَكَذَلِكَ الشَّرِكَةُ عِنْدَنَا فَلَا تَجُوزَانِ فِي السَّلَمِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛ لِمَا مَضَى فِي النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ الْقَبْضِ.
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی کوئی چیز خریدے، پھر اسے واپس کرے اور اس کے ساتھ کچھ درہم بھی واپس دے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سودا واپس کرنا بیع کو فسخ کرتا ہے۔ یہ صرف اصل مال کے ساتھ واپس ہو سکتی ہے اور بیعِ تولیہ تو یہ بیع ہے، یہ بات حسن، محمد بن سیرین اور عطاء بن ابی رباح رحمہم اللہ نے کہی ہے۔ اسی طرح ہمارے نزدیک شرکت بھی بیع ہے، لہٰذا یہ دونوں بیعِ سلم میں وصولی سے پہلے جائز نہیں ہیں، کیونکہ حدیث میں ہے کہ ”گندم میں بیع اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک وصول نہ کر لی جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11133