السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع فضل الماء باب: ضرورت سے زائد پانی فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَعَنْ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَأَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ " قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " وَأَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ "، فَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُكْرِيَهَا مَعَ الْمَاءِ لِلْحَرْثِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَقَدْ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَقَالَ: بَيَاضِ الْأَرْضِ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے اور اونٹ دکھانے کی قیمت سے منع کیا ہے، اسی طرح اس سے بھی منع کیا ہے کہ آدمی اپنی زمین اور پانی بیچے۔“ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: «وَأَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ» ”اور یہ کہ آدمی اپنی زمین اور پانی کو بیچے۔“ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی زمین پانی کے ساتھ کرائے پر دے، اس شرط پر کہ وہ آمدن میں سے کچھ دے گا، واللہ اعلم۔ اسی روایت کو روح بن عبادہ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، انہوں نے حدیث میں کہا ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے زمین اور پانی کو کھیتی باڑی کرنے کے لیے بیچنے سے منع کیا ہے۔“