السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تحريم التجارة في الخمر باب: شراب کی تجارت کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيِّ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَهَا؟ " فَقَالَ: لَا، فَسَارَّ إِنْسَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ سَارَرْتَهُ؟ " قَالَ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا "، قَالَ: فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا..اہل مصر میں سے ایک شخص عبدالرحمن بن وعلہ سبائی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انگوروں کے نچوڑے ہوئے پانی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب سے بھرا ہوا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر دیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کر دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، پھر اس سے ایک آدمی نے سرگوشی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا سرگوشی کر رہے تھے؟“ اس نے کہا: میں نے اسے کہا ہے کہ تو بیچ ڈال، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کا پینا حرام ہے، اس کا بیچنا بھی حرام ہے۔“ راوی کہتا ہے: پھر اس نے دو مشکیزے کھولے اور جو کچھ ان میں تھا اسے ضائع کر دیا۔