السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء فيما يحل اقتناؤه من الكلاب باب: جن کتوں کو پالنا حلال ہے ان کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11034
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَقَتَلْنَاهَا، حَتَّى إنْ كَانَتِ الْأَعْرَابِيَّةُ تَجِيءُ مَعَهَا كَلْبُهَا فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ أَكْرَهُ أَنْ أُفْنِيَهَا لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، وَلَكِنِ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ ذِي عَيْنَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے قتل کا حکم دیا، چنانچہ آپ ﷺ نے کتوں کو قتل کیا حتیٰ کہ کوئی دیہاتی عورت آتی اس کے ساتھ کتا ہوتا تو ہم اسے مار ڈالتے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کتے ایک ایسی جنس نہ ہوتے جسے ختم کرنا میں ناپسند کرتا ہوں تو میں اس کے قتل کا حکم دیتا، لیکن اب تم صرف وہ سیاہ کتا قتل کرو جس کے سر پر دو سفید آنکھیں بنی ہوتی ہیں۔“