السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء فيما يحل اقتناؤه من الكلاب باب: جن کتوں کو پالنا حلال ہے ان کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا، غَيْرَ كَلْبِ زَرْعٍ وَلَا ضَرْعٍ، فَقَدْ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ "، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنْ كَانَ فِي دَارٍ وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ؟ فَقَالَ: هُوَ عَلَى رَبِّ الدَّارِ الَّذِي يَمْلِكُهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھیتی کی حفاظت کرنے والے اور شکاری کتے کے علاوہ کوئی اور کتا پالا تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔“ ابوالحکم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اگر گھر میں کتا ہو اور میں اسے ناپسند کرتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا: اس کا وبال گھر کے مالک پر ہوگا۔