السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء فيما يحل اقتناؤه من الكلاب باب: جن کتوں کو پالنا حلال ہے ان کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ " فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ زَرْعًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ. وَقَدْ رَوَى أَبُو الْحَكَمِ عِمْرَانُ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " كَلْبَ الزَّرْعِ "، وَكَأَنَّهُ أَخَذَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الزَّرْعِ، وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسِهِ فِي كَلْبِ الْمَاشِيَةِ وَالصَّيْدِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سوائے رکھوالی اور شکاری کتے کے تمام کتوں کے قتل کا حکم دیا۔ ان سے کہا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیتی والے کتے کو بھی مستثنیٰ کرتے ہیں؟ فرمایا: ”ان کی کھیتی تھی۔“ (صحیح مسلم) اور ابوالحکم عمران بن حارث نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھیتی کے کتے کا استثنا بھی روایت کیا ہے، گویا کہ انہوں نے کھیتی والی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لی ہے اور انہوں نے نبی ﷺ سے لی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خود نبی ﷺ سے جانوروں کی حفاظت کرنے والے اور شکاری کتے کے بارے میں روایت کیا ہے۔