السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في قتل الكلاب باب: کتوں کو مارنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11020
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ بِالْمَدِينَةِ، فَأُخْبِرَ بِامْرَأَةٍ لَهَا كَلْبٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقُتِلَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مدینہ میں نبی ﷺ نے ”کتوں کے قتل کا حکم دیا“ تھا، آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ مدینہ میں فلاں عورت کے پاس کتا ہے تو آپ ﷺ نے وہاں آدمی بھیج کر کتا قتل کرا دیا۔