السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب بيوع الكلاب وغيرها مما لا يحل -- باب: النهي عن ثمن الكلب باب: کتوں اور ان کے علاوہ دیگر ناجائز اشیاء کی بیع پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: کتے کی قیمت (وصول کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11011
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الضَّبِّيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا مُؤَمَّلٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قَيْسٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: " نَهَى عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ، وَعَسْبِ الْفَحْلِ، وَعَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ، وَعَنِ الْكَلْبِ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ " فَهَكَذَا رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْهُ، وَرِوَايَةُ حَمَّادٍ عَنْ قَيْسٍ فِيهَا نَظَرٌ. وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ سُحْتٌ "، فَذَكَرَ كَسْبَ الْحَجَّامِ، وَمَهْرَ الْبَغِيِّ، وَثَمَنَ الْكَلْبِ، إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا. وَالْوَلِيدُ وَالْمُثَنَّى ضَعِيفَانِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زانیہ کی اجرت، سانڈ دکھانے کی قیمت اور بلے اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے کہ وہ حلال ہے۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں بالکل حرام ہیں“ اس حدیث میں آپ نے حجام کی مزدوری، زانیہ کی اجرت اور کتے کی قیمت کا تذکرہ کیا۔