السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من يشتري من ماله لنفسه من نفسه إذا كان أبا أو جدا من قبل الأب باب: اگر شخص باپ یا دادا ہو تو اس کا یتیم کے مال سے اپنے لیے خود ہی کوئی چیز خریدنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: وَثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ قَالَ: مَاتَتِ امْرَأَةٌ لِخَالٍ لِي وَتَرَكَتْ خَادِمًا وَأَوْلَادًا صِغَارًا، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: " لَا بَأْسَ أَنْ يُقَوِّمَ الْأَبُ أَنْصِبَاءَ وَلَدِهِ وَيَطَأَهَا " قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: يُقَوِّمُ وَيَشْتَرِي مِنْ نَفْسِهِ فَيَصِيرُ لَهُ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَزْهَرَ: حَدَّثَكَ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَأْخُذَ جَارِيَةَ وَلَدِهِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ وَكِيعٍ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ وَطَاوُسًا، فَقَالَا: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ. قَالَ: وَثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مَاتَتْ عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ، فَأَفْتَوْا أَبَا بُرْدَةَ يَتْبَعُ بَعْضَ جَوَارِيهَا. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.(الف) عبدالکریم جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے ماموں کی بیوی فوت ہو گئی اور اپنے پیچھے ایک خادمہ اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گئی تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ باپ (اس خادمہ میں) اپنی اولاد کے حصوں کی قیمت لگا لے اور اس سے ہم بستری کرے۔
(ب) شیخ ابو ولید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے اصحاب نے کہا: وہ اس کی قیمت لگائے گا اور اپنے آپ سے خرید لے گا تو وہ اس کی ہو جائے گی۔
(ج) امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آدمی اپنی اولاد کی لونڈی کو لینے کا ارادہ کرے، پھر اسی طرح ذکر کیا۔
(د) ابو سفیان بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ اور طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
(ھ) موسیٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ابو بردہ رحمہ اللہ کے پاس فوت ہو گئیں تو لوگوں نے ابو بردہ کو فتویٰ دیا کہ وہ اس کی بعض لونڈیاں لے سکتے ہیں۔ پھر پوری حدیث ذکر کی۔