السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تجارة الوصي بمال اليتيم أو إقراضه باب: وصی کا یتیم کے مال کے ساتھ تجارت کرنے یا اسے قرض دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10987
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّهُ كَانَ يَسْتَسْلِفُ أَمْوَالَ يَتَامَى عِنْدَهُ؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَرَى أَنَّهُ أَحْرَزُ لَهُ مِنَ الْوَضْعِ "، قَالَ: وَكَانَ يُؤَدِّي زَكَاتَهُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس یتیموں کا مال تجارت کی غرض سے ہوتا تھا، کیونکہ حفاظت کے لحاظ سے یہ یتیم کے مال کو ویسے رکھنے سے زیادہ بہتر تھا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے مال سے زکوۃ بھی ادا کرتے تھے۔