السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تجارة الوصي بمال اليتيم أو إقراضه باب: وصی کا یتیم کے مال کے ساتھ تجارت کرنے یا اسے قرض دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10985
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَلْ قِبَلَكُمْ مَتْجَرٌ؛ فَإِنَّ عِنْدِي مَالَ يَتِيمٍ قَدْ كَادَتِ الزَّكَاةُ أَنْ تَأْتِيَ عَلَيْهِ " قَالَ: قُلْتُ لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَفَعَ إِلِيَّ عَشَرَةَ آلَافٍ، فَغِبْتُ عَنْهُ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: " مَا فَعَلَ الْمَالُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: هُوَ ذَا قَدْ بَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ، قَالَ: " رُدَّ عَلَيْنَا مَالَنَا، لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
حکم بن ابی العاص فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی تجارت ہے؟ میرے پاس ایک یتیم کا مال ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی سے ختم ہوا چاہتا ہے۔“ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دس ہزار دیے، چنانچہ میں وہ مال لے کر کچھ عرصہ غائب رہا، پھر میں آپ کے پاس واپس آیا تو آپ نے مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا: ”اس مال کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: وہ ایک لاکھ بن چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہمیں ہمارا مال واپس کر دو، ہمیں تجارت سے کوئی غرض نہیں۔“