السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تجارة الوصي بمال اليتيم أو إقراضه باب: وصی کا یتیم کے مال کے ساتھ تجارت کرنے یا اسے قرض دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10982
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، ثنا يَعْقُوبُ، يَعْنِي أَبَا يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، يَعْنِي أَبَا أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَلِيَ لِيَتِيمٍ مَالًا فَلْيَتَّجِرْ بِهِ، وَلَا يَدَعْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ " وَقَدْ رُوِّينَاهُ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَرُوِيَ عَنْ مِنْدَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرٍو.حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص یتیم کے مال کا سرپرست بنے وہ اس مال کے ساتھ تجارت کرے اور اس کو یونہی نہ چھوڑ دے کہ وہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ختم ہو جائے۔“
اس بارے میں درست روایت حسین المعلم کی ہے، وہ عمرو بن شعیب سے اور وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یتیموں کے مالوں میں (تجارت کے ذریعہ) روزی تلاش کرو، مبادا کہ صدقہ اسے ختم کر دے۔