السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الرخصة في معونته ونصيحته إذا استنصحه باب: جب وہ (دیہاتی) نصیحت طلب کرے تو اس کی مدد کرنے اور اسے مشورہ دینے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10911
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِحَلُوبَةٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْتُ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فَقُلْتُ: إِنِّي لَا عِلْمَ لِي بِأَهْلِ هَذِهِ السُّوقِ فَلَوْ بِعْتَ لِي، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَإِنْ جَاءَكَ مَنْ يُبَايِعُكَ فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ ".حافظ ثناء اللہ
سالم مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے بیان کیا کہ میں نبی ﷺ کے دور میں اپنے جانوروں کا دودھ دوہ کر لایا، میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں اس بازار کے متعلق معلومات نہیں رکھتا، اگر آپ میرے لیے فروخت کر دیں۔ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ”شہری دیہاتی کے لیے فروخت کرے۔“ لیکن بازار جاؤ، جو آپ سے خریدنا چاہے مجھ سے مشورہ کر لینا، تاکہ میں فروخت کا کہہ دوں یا منع کر دوں۔