السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يسوم أحدكم على سوم أخيه باب: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے“۔
حدیث نمبر: 10899
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ وَلَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ، وَلَا يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن شماسہ مہری رحمہ اللہ نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن مومن کا بھائی ہے اور کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے، یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے اور نہ ہی اس کی منگنی پر منگنی کا پیغام دے جب تک وہ چھوڑ نہ دے۔“