السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يسوم أحدكم على سوم أخيه باب: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے“۔
حدیث نمبر: 10897
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا؛ لِتُكْفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلِتُنْكَحَ، إِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللهُ لَهَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام نہ دے اور نہ ہی کوئی اپنے بھائی کے ریٹ پر ریٹ کرے اور عورت کا نکاح اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نہ کیا جائے (یعنی انہیں اکٹھا نہ کریں) اور عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کا رزق حاصل کرے، بلکہ اس کی موجودگی میں نکاح کرے کیونکہ اس کے لیے وہی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔“