السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن النجش باب: نجش (دھوکہ دینے کے لیے بولی بڑھانے) کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: شَهْرٌ كَانَ تَاجِرًا وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، حَتَّى يَذَرَ إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَأَرْسَلَهُ، ⦗٥٦٣⦘ وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا بِبَيْعِ الْمَغَانِمِ فِيمَنْ يَزِيدُ.زید بن اسلم کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا، اسے شہر کہا جاتا تھا، وہ تاجر تھا۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے «بَيْعُ الْمُزَايَدَةِ» ”بیع المزایدہ“ کے متعلق پوچھ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے، الا یہ کہ غنیمتیں اور وراثت ہو۔“
(ب) یونس بن عبدالاعلیٰ، ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے سوال کر رہا تھا، اور انہوں نے اسے مرسل بیان کیا۔
(ج) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو پایا ہے کہ وہ غنیمتوں کی قیمت میں اضافہ کرنے میں حرج محسوس نہ کرتے تھے۔