السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن النجش باب: نجش (دھوکہ دینے کے لیے بولی بڑھانے) کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَالنَّجْشُ أَنْ يَحْضُرَ الرَّجُلُ السِّلْعَةَ تُبَاعُ، فَيُعْطِي بِهَا الشَّيْءَ وَهُوَ لَا يُرِيدُ شِرَاءَهَا؛ لِيَقْتَدِيَ بِهِ السُّوَّامُ فَيُعْطُونَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ لَوْ لَمْ يَسْمَعُوا سَوْمَهُ، فَمَنْ نَجَشَ فَهُوَ عَاصٍ بِالنَّجْشِ إِنْ كَانَ عَالِمًا بِنَهْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: " وَالْبَيْعُ جَائِزٌ لَا يُفْسِدُهُ مَعْصِيَةُ رَجُلٍ نَجَشَ عَلَيْهِ "، قَالَ: " وَقَدْ بِيعَ فِيمَنْ يَزِيدُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَازَ الْبَيْعُ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ زَادَ مَنْ لَا يُرِيدُ الشِّرَاءَ ".امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «النَّجْشُ» یہ ہے کہ آدمی فروخت ہونے والے سامان کے پاس موجود ہو جب وہ فروخت ہو رہا ہو، اور وہ اس کی کچھ قیمت لگائے حالانکہ وہ سامان خریدنا نہیں چاہتا، تاکہ بھاؤ کرنے والے (بولی لگانے والے) اس کی پیروی کریں اور اس سے زیادہ دیں جتنا وہ دیتے اگر اس کا بھاؤ نہ سنتے۔ بھاؤ میں اضافہ کرنے والا اگر نبی ﷺ کی ممانعت کو جانتا ہے تو گناہ گار ہے۔ بیع جائز ہے، اس آدمی کی نافرمانی کی وجہ سے بیع فاسد نہ ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں زیادہ بولی لگانے والے کے ہاتھ فروخت کیا جاتا تھا تو بیع جائز رہی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ریٹ میں اضافہ کرنے والا خریدنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔