السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع الملامسة والمنابذة باب: بیعِ ملامسہ (چھو کر سودا طے کرنا) اور بیعِ منابذہ (چیز پھینک کر سودا طے کرنا) کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ /لِبْسَتَيْنِ، وَبَيْعَتَيْنِ نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ، وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ، أَوِ النَّهَارِ لَا يُقَلِّبُهُ إِلَّا ذَلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبُذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ثَوْبَهُ وَيَنْبُذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ، وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ، وَاللِّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَى احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”دو قسم کے لباس اور دو بیعوں سے منع فرمایا ہے، بیعوں میں سے ایک «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور دوسری «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ ہے۔ ملامسہ: آدمی کا دوسرے کے کپڑے کو چھونا بغیر الٹ پلٹ کیے۔ منابذہ: آدمی دوسرے کی طرف کپڑا پھینکتا ہے اور ان کا سودا بغیر دیکھے اور بغیر رضامندی کے طے ہو جاتا ہے۔ اور دو لباس یہ ہیں: «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال الصماء“ اور وہ یہ ہے کہ آدمی (تکبر سے) اپنے ایک کندھے پر کپڑا ڈال لیتا ہے، جس سے اس کی ایک طرف ننگی ہو جاتی ہے اس پر کپڑا نہیں ہوتا اور دوسرا لباس یہ ہے کہ آدمی اپنے کپڑے سے اس طرح گوٹھ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ ننگی ہو جائے۔“