حدیث نمبر: 10868
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ /لِبْسَتَيْنِ، وَبَيْعَتَيْنِ نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ، وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ، أَوِ النَّهَارِ لَا يُقَلِّبُهُ إِلَّا ذَلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبُذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ثَوْبَهُ وَيَنْبُذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ، وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ، وَاللِّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَى احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”دو قسم کے لباس اور دو بیعوں سے منع فرمایا ہے، بیعوں میں سے ایک «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور دوسری «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ ہے۔ ملامسہ: آدمی کا دوسرے کے کپڑے کو چھونا بغیر الٹ پلٹ کیے۔ منابذہ: آدمی دوسرے کی طرف کپڑا پھینکتا ہے اور ان کا سودا بغیر دیکھے اور بغیر رضامندی کے طے ہو جاتا ہے۔ اور دو لباس یہ ہیں: «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال الصماء“ اور وہ یہ ہے کہ آدمی (تکبر سے) اپنے ایک کندھے پر کپڑا ڈال لیتا ہے، جس سے اس کی ایک طرف ننگی ہو جاتی ہے اس پر کپڑا نہیں ہوتا اور دوسرا لباس یہ ہے کہ آدمی اپنے کپڑے سے اس طرح گوٹھ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ ننگی ہو جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10868
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1511»