السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع حبل الحبلة باب: بیعِ حبل الحبلہ (جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے بچے کی بیع) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10860
حافظ ثناء اللہ
(ایک شخص اونٹنی خرید کر یہ شرط لگاتا ہے کہ اس کی ادائیگی اس وقت ہوگی جب مادہ بچہ جنے اور مادہ حاملہ ہو کر پھر مادہ کو جنم دے)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ، وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، وَتُنْتَجَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے“، یہ وہ تھی جو جاہلیت والے آپس میں کرتے تھے، وہ اونٹ کو خریدتے کہ اونٹنی بچے کو جنم دے اور پھر وہ مادہ جو اس کے پیٹ میں ہے، بچہ جنم دے۔