حدیث نمبر: 10845
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ⦗٥٥٢⦘ أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، كُلَّ سَنَةٍ وُقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقُكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ فَانْتَهَرْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللهِ إِذًا، قَالَتْ: فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " فَفَعَلَتْ، قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، فَحَمِدَ اللهَ، وَأثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، كِتَابُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے گھر والوں نے نو سال میں نو اوقیہ، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کی ہے، آپ میری مدد کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اگر تیرے مالک چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ رقم ادا کر کے تجھے آزاد کر دیتی ہوں اور ولاء میری ہو گی۔ انہوں نے اپنے اہل سے تذکرہ کیا، لیکن انہوں نے ولاء دینے سے انکار کر دیا، وہ میرے پاس آئیں اور اس کا تذکرہ کیا تو میں نے ان کو ڈانٹا اور کہا: تب نہیں۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سن لیا، میں نے آپ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کر اور ولاء کی شرط لگا، کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ فرماتی ہیں: میں نے ایسا کیا، پھر شام کو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو کتاب میں نہیں ہیں، جو شرط بھی کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرائط بھی ہوں۔ کتاب اللہ زیادہ حق رکھتی ہے اور اللہ کی شرائط زیادہ پختہ ہوتی ہیں، آدمیوں کو کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: تو آزاد کر اور ولاء میرے لیے ہے، حالانکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10845
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2424»