السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: اختلاف المتبايعين باب: خریدار اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 10809
وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ بَعْضِ بَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَايِعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا شَاهِدٌ اسْتُحْلِفَ الْبَائِعُ، ثُمَّ كَانَ الْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ فَذَكَرَهُ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب دو بیع کرنے والے اختلاف کریں اور دونوں کے درمیان گواہ بھی کوئی نہ ہو تو فروخت کرنے والے سے قسم کا مطالبہ کیا جائے گا، پھر خریدار کو اختیار ہوگا؛ اگر چاہے تو لے لے یا واپس کر دے۔“