السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في مال العبد باب: غلام کے مال کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10775
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " الْعَبْدُ وَمَالُهُ لِسَيِّدِهِ فَلَيْسَ عَلَى سَيِّدِهِ جُنَاحٌ فِيمَا أَصَابَ مِنْ مَالِهِ ".حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ غلام اور اس کا مال سید کے لیے ہے اور سید پر کوئی گناہ نہیں ہے جو وہ اپنے غلام کے مال سے حاصل کر لے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غلام کو اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن آقا اجازت دے یا پھر اچھائی کے ساتھ کھائے یا کپڑے بنائے۔