السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في مال العبد باب: غلام کے مال کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10758
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٥٣٠⦘ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجور فروخت کی پیوندکاری کے بعد تو اس کا پھل پیوندکاری کرنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدار شرط لگالے، اور جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدار شرط لگالے۔“