حدیث نمبر: 10735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أنا أَبُو سِبَاعٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ بُيِّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ؟، فَقَالَ: أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا أَوْ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ، قَالَ: فَإِنَّ ⦗٥٢٤⦘ بِخُفِّهَا نَقْبًا، قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَصْلَحَكَ اللهُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَاعَ شَيْئًا فَلَا يَحِلُّ لَهُ حَتَّى يُبَيِّنَ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوسباع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں گھر سے نکلا تو ہم نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ اپنی چادر گھسیٹ رہے تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے بندے! تو نے اونٹنی خریدی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ واثلہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا اس کے عیب کی وضاحت کی گئی ہے؟ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ ظاہری طور پر موٹی تازی اور صحت مند ہے، واثلہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ نے گوشت کے لیے خریدی ہے یا سواری کرنا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: میں حج کا سفر کرنا چاہتا ہوں۔ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے پاؤں میں سوراخ ہیں، اس کا ساتھی (یعنی اونٹنی والا) کہتا ہے کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، آپ نے معاملہ ہی خراب کر دیا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”جو شخص کوئی چیز فروخت کرنا چاہے تو اس کے عیب کو بیان کر دے اور یہ جائز نہیں کہ جانتے ہوئے پھر عیب کی وضاحت نہ کی جائے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10735
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه احمد 3/ 419»