السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع العرايا باب: بیعِ عرایا کا بیان۔
حدیث نمبر: 10649
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھل کو پکنے سے پہلے فروخت نہ کرو اور نہ ہی تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرو۔“
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے بعد میں بیعِ عرایا میں رخصت دی، یعنی تر کھجور خشک کھجور کے بدلے ہو۔ اس کے علاوہ میں رخصت نہ دی۔
درخت کے پھل کو اندازاً خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔