السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: السفر الذي يجوز فيه التيمم باب: اس سفر کا بیان جس میں تیمم کرنا جائز ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، ⦗٣٤٢⦘ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ عَلَى فَخِذِي فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَعَاتَبَنِي، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى آيَةَ التَّيَمُّمِ {فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣] فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوْلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ اس کی تلاش میں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ٹھہر گئے، جبکہ وہ پانی (والی جگہ) پر نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا۔ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”کیا آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے کیا کیا؟ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے حالانکہ وہ پانی (والی جگہ) پر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ ﷺ میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر سوئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: ”تو نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو روک دیا ہے حالانکہ وہ پانی پر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا وہ کہا اور وہ میری کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کچوکے مارتے تھے، پھر بھی میں نے حرکت نہ کی کیونکہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سوئے رہے یہاں تک کہ انہوں نے بغیر پانی کے صبح کی، تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت ﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة النساء: 43] نازل فرمائی۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، جو نقیبوں میں سے تھے، کہنے لگے: ”اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری (وجہ سے) پہلی برکت نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں (سوار) تھی، تو وہ ہار ہم نے اسی کے نیچے سے پایا۔