السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في وضع الجائحة باب: جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی (نقصان وضع کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فِي طُولِ مُجَالَسَتِي لَهُ مَا لَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ مِنْ كَثْرَتِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ: " أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ " لَا يَزِيدُ عَلَى " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ "، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ: " وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ " قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ حُمَيْدٌ يَذْكُرُ بَعْدَ بَيْعِ السِّنِينَ كَلَامًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَا أَحْفَظُهُ، فَكُنْتُ أَكُفُّ عَنْ ذِكْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ؛ لِأَنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ الْكَلَامُ وَفِي الْحَدِيثِ: أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ الَّذِي لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُ بِوَضْعِهَا عَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصُّلْحِ عَلَى النِّصْفِ، وَعَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصَّدَقَةِ تَطَوُّعًا حَضًّا عَلَى الْخَيْرِ لَا حَتْمًا، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَيَجُوزُ غَيْرُهُ فَلَمَّا احْتَمَلَ الْحَدِيثُ الْمَعْنَيَيْنِ مَعًا، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَيِّهِمَا أَوْلَى بِهِ لَمْ يَجُزْ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُحْكَمَ عَلَى النَّاسِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِوَضْعِ مَا وَجَبَ لَهُمْ بِلَا خَبَرٍ ثَبَتَ بِوَضْعِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان رحمہ اللہ سے بہت زیادہ مرتبہ یہ حدیث سنی، میں اس کو شمار نہیں کرسکتا۔ وہ اس میں قیمت کی کمی کا ذکر نہیں کرتے تھے اور اس سے زیادہ کچھ بیان نہ کرتے کہ نبی ﷺ نے ”پھلوں کی کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے“، پھر اس کے بعد زائد کیا کہ آپ ﷺ نے ”خشک سالی کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا“۔
(ب) سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حمید رحمہ اللہ پھلوں کی کئی سالوں کی بیع کے بعد اور آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے سے پہلے کچھ کلام ذکر کرتے تھے جو مجھے یاد نہیں، اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک جاتا تھا، کیونکہ مجھے علم نہ تھا کہ وہ کلام کیسا تھا، حالانکہ حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم موجود ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے حمید رحمہ اللہ کی حدیث کا جو کلام سفیان رحمہ اللہ کو یاد نہیں رہا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ آپ ﷺ کا قیمت کم کرنے کا حکم ایسا ہی ہے جیسے نصف پر صلح کرنے کا حکم یا نفلی صدقہ کا حکم، جو بھلائی کی ترغیب کے لیے ہے، لازمی نہیں، یا اس جیسی کوئی اور بات، اور اس کے علاوہ بھی ممکن ہے۔
جب حدیث میں دونوں معنوں کا احتمال موجود ہے اور اس میں کوئی دلالت نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سا معنی زیادہ لائق ہے، تو ہمارے نزدیک (واللہ اعلم) یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے مالوں میں ان کے خلاف یہ فیصلہ کیا جائے کہ وہ اپنا واجب حق چھوڑ دیں، جب تک اسے چھوڑنے کے بارے میں کوئی ثابت حدیث نہ ہو۔