السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من باع ثمر حائطه، واستثنى منه مكيلة مسماة فلا يجوز؛ لنهيه عن الثنيا؛ ولما فيه من الغرر باب: جو شخص اپنے باغ کا پھل بیچے اور اس میں سے ایک مقررہ ماپ کا استثناء کر لے تو یہ جائز نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے (غیر معین) استثناء (ثنیا) سے منع فرمایا ہے، اور اس لیے کہ اس میں دھوکہ (غرر) پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10618
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ "، قَالَ أَحَدُهُمَا: " وَبَيْعِ السِّنِينَ، وَعَنِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”«الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ)، «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ)، «الْمُخَابَرَةِ» (مخابرہ) اور «الْمُعَاوَمَةِ» (معاومہ) سے منع فرمایا ہے“، ان میں سے ایک کہتے ہیں: ”دو سالوں اور «الثُّنْيَا» (استثناء) کی بیع کی بھی ممانعت ہے“ اور «الْعَرَايَا» (عرایا) میں رخصت دی، یعنی اندازاً درخت کے پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچا جاسکتا ہے تاکہ مالک درختوں کے تازہ پھل کو اپنے استعمال میں لاسکے۔