السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : أحل الله البيع وحرم الربا باب: ”اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے“۔
حدیث نمبر: 10567
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَقَالَ: " مَا هَذَا مِنْ تَمْرِنَا " فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ الرِّبَا رُدُّوهُ، ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا، ثُمَّ اشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ ہماری کھجوروں سے ہیں؟“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے ایک صاع کھجور کا ایسے لیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سود ہے، تم اس کو واپس کر دو اور ہماری کھجوریں فروخت کرو، پھر یہ کھجوریں ہمارے لیے خرید لیا کرو۔“