السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في النهي عن بيع الرطب بالتمر باب: تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10556
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، فِي الْمُوَطَّأِ، وَأَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: ⦗٤٨٠⦘ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: الْبَيْضَاءُ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ.حافظ ثناء اللہ
زید ابو عیاش نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے اچھی گندم کو ادنیٰ گندم کے بدلے فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں میں سے افضل کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: بیضاء، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، جب آپ ﷺ سے خشک کھجور کو تر کھجور کے بدلے خریدنے کے متعلق سوال کیا گیا تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تر کھجور جب خشک ہو تو کم ہو جاتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے اس سے منع کر دیا۔