السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يباع ذهب بذهب مع أحد الذهبين شيء غير الذهب باب: ”سونے کی سونے کے عوض اس طرح بیع نہیں کی جائے گی کہ دونوں میں سے کسی ایک سونے کے ساتھ کوئی اور چیز بھی شامل ہو“۔
حدیث نمبر: 10551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ، أَخْبَرَهُمَا، عَنْ حَنَشٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوٍ فَصَارَتْ لِي، أَوْ قَالَ: فَطَارَتْ لِي، وَلِأَصْحَابِي قَلَائِدُ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، فَقَالَ: انْزِعْ ذَهَبَهَا، فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ، ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حنش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، حنش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یا میرے ساتھیوں کو ایسے ہار ملے جس میں سونا، چاندی اور موتی تھے۔ میں نے اس کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا، میں نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو فضالہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اس کا سونا اتار کر ایک پلڑے میں رکھ اور سونا اتار کر ایک پلڑے میں رکھ پھر برابر برابر لینا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ان کو برابر برابر ہی لے۔“