السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: اعتبار التماثل فيما كان موزونا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بالوزن وفيما كان مكيلا على عهده بالكيل إذا بيع الجنس الواحد فيما يجري فيه الربا بعضه ببعض باب: نبی ﷺ کے عہدِ مبارک میں وزن کی جانے والی اشیاء کا وزن کے اعتبار سے، اور ماپی جانے والی اشیاء کا ماپ کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، جب ان چیزوں میں سے ایک ہی جنس کی ایک دوسرے کے عوض بیع کی جائے جن میں سود جاری ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10544
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں ملی جلی کھجوروں کا رزق دیے گئے یعنی وہ ملی جلی ہی ہوتی تھیں تو ہم دو صاع کے بدلے ایک صاع لے لیتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔ ایک درہم دو درہم کے عوض بھی نہیں۔“