السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: اعتبار التماثل فيما كان موزونا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بالوزن وفيما كان مكيلا على عهده بالكيل إذا بيع الجنس الواحد فيما يجري فيه الربا بعضه ببعض باب: نبی ﷺ کے عہدِ مبارک میں وزن کی جانے والی اشیاء کا وزن کے اعتبار سے، اور ماپی جانے والی اشیاء کا ماپ کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، جب ان چیزوں میں سے ایک ہی جنس کی ایک دوسرے کے عوض بیع کی جائے جن میں سود جاری ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10541
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ شَاهَدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى ".حافظ ثناء اللہ
ابوالاشعث، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھے، جو انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا، فرماتے ہیں کہ: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر، اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن، اور گندم گندم کے بدلے برابر ماپ، اور جو جو کے بدلے برابر ماپ، اور کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔“