حدیث نمبر: 10519
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ أَبُو زُهَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو مِجْلَزٍ وَأَنَا شَاهِدٌ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ حَتَّى لَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا تَتَّقِي اللهَ؟، حَتَّى مَتَى تُؤَكِّلُ النَّاسَ الرِّبَا؟ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَ زَوْجَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ: " إِنِّي أَشْتَهِي تَمْرَ عَجْوَةٍ " وَإِنَّهَا بَعَثَتْ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَتْ بَدَلَهُمَا بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ، فَقَدَّمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ فَتَنَاوَلَ تَمْرَةً ثُمَّ أَمْسَكَ، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ " قَالَتْ: بَعَثْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ فُلَانٍ فَأَتَيْنَا بَدَلَهُمَا مِنْ هَذَا الصَّاعِ الْوَاحِدِ فَأَلْقَى التَّمْرَةَ مِنْ يَدِهِ وَقَالَ: " رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَمَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَرْبَى وَكُلُّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَكَّرْتَنِي يَا أَبَا سَعِيدٍ أَمْرًا أُنْسِيتُهُ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، وَكَانَ يَنْهَى بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صرف میں تفاضل کے قائل تھے، وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے، جب وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا آپ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کب تک آپ لوگوں کو سود کھلاؤ گے؟ کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ایک دن نبی ﷺ اپنی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”عجوہ کھجور کھانے کو میرا دل چاہتا ہے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پرانی کھجوروں کے دو صاع ایک انصاری کے گھر بھیج دیے اور اس کے عوض ایک صاع عجوہ کھجور کا ان کو مل گیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیں، آپ ﷺ کو وہ بڑی پسند آئیں۔ آپ ﷺ نے ایک کھجور پکڑی، پھر رک گئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں یہ کہاں سے ملی ہیں؟“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے دو صاع پرانی کھجوریں فلاں کے ہاں بھیجی تھیں تو اس کے بدلے یہ ایک صاع آیا ہے، آپ ﷺ نے ہاتھ سے کھجور ڈال دی اور فرمایا: ”تم اس کو واپس کر دو، تم اس کو واپس کر دو، مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جَو، سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، برابر برابر اور نقد ہونا چاہیے، اس میں کمی یا زیادتی درست نہیں ہے، جس نے زیادہ یا کمی کی اس نے سود حاصل کیا، ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جائے یا ماپی جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابوسعید! آپ نے مجھے ایسا معاملہ یاد کروا دیا جو میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10519
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/ 49»