السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: جريان الربا في كل ما يكون مطعوما استدلالا بما باب: ہر اس چیز میں سود کے جاری ہونے کا بیان جو کھائی جاتی ہو، اس چیز سے استدلال کرتے ہوئے جو (وارد ہوئی ہے)۔
حدیث نمبر: 10517
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ ⦗٤٦٨⦘ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلًا، وَالزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”کھجور کے اوپر کے تولے ہوئے پھل ماپی ہوئی کھجور کے عوض فروخت کرنے، اور منقیٰ کو ماپے ہوئے انگور کے عوض، اور کھیتی کو ماپی ہوئی گندم کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا۔“